❮
❯
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ: كَانَ إِسْلَامُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَحِمَهُ اللهُ حَمِيَّةً، وَكَانَ رَجُلًا رَامِيًا، وَكَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ فَيَصْطَادُ، فَإِذَا رَجَعَ مَرَّ بِمَجْلِسِ قُرَيْشٍ، وَكَانُوا يَجْلِسُونَ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَيَمُرُّ بِهِمْ فَيَقُولُ: رَمَيْتُ كَذَا، وَصَنَعَتُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَنْطَلِقُ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَأَقْبَلَ مِنْ رَمْيِهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عُمَارَةَ، مَاذَا لَقِيَ ابْنُ أَخِيكَ مِنْ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ؟ وَتَنَاوَلَهُ وَفَعَلَ بِهِ وَفَعَلَ. فَقَالَ: «هَلْ رَآهُ أَحَدٌ؟» قَالَتْ: إِي وَاللهِ لَقَدْ رَآهُ نَاسٌ. فَأَقْبَلَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى ذَلِكَ الْمَجْلِسِ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ وَأَبُو جَهْلٍ فِيهِمْ، فَاتَّكَأَ عَلَى قَوْسِهِ، فَقَالَ: «رَمَيْتُ كَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا» ، ثُمَّ جَمَعَ يَدَهُ بِالْقَوْسِ، فَضَرَبَ بِهَا بَيْنَ أُذُنَيْ أَبِي جَهْلٍ، فَدَقَّ سِيَتَهَا، ثُمَّ قَالَ: «خُذْهَا بِالْقَوْسِ، وَأُخْرَى بِالسَّيْفِ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللهِ» . قَالُوا: يَا أَبَا عُمَارَةَ، إِنَّهُ سَبَّ آلِهَتَنَا، وَلَوْ كُنْتَ أَنْتَ، وَأَنْتَ أَفْضَلُ مِنْهُ، مَا أَقْرَرْنَاكَ وَذَاكَ، وَمَا كُنْتَ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَاحِشًا
ترجمہ

محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا (خاندانی) غیرت کی بنا پر تھا۔ وہ تیر انداز آدمی تھے، حرم سے باہر نکل کر شکار کیا کرتے تھے، اور جب واپس آتے تو قریش کی مجلس کے پاس سے گزرتے، اور وہ لوگ صفا و مروہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے، چنانچہ حمزہ ان کے پاس سے گزرتے اور کہتے: میں نے فلاں شکار کیا اور فلاں فلاں کام کیا، پھر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے۔ ایک دن وہ اپنے شکار سے واپس آ رہے تھے کہ ایک عورت ان سے ملی اور کہنے لگی: اے ابوعمارہ! آپ کے بھتیجے کو ابوجہل بن ہشام کے ہاتھوں کیا کچھ سہنا پڑا؟ اس نے انہیں طرح طرح سے تکلیف دی اور فلاں فلاں سلوک کیا۔ حمزہ نے پوچھا: کیا کسی نے یہ دیکھا؟ اس نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! لوگوں نے دیکھا ہے۔ چنانچہ وہ چل پڑے یہاں تک کہ اس مجلس میں پہنچے جو صفا و مروہ کے پاس تھی، وہاں لوگ بیٹھے تھے اور ابوجہل بھی ان میں موجود تھا۔ حمزہ نے اپنی کمان پر ٹیک لگائی اور کہا: میں نے فلاں شکار کیا اور فلاں کام کیا، پھر اپنی کمان والا ہاتھ اٹھایا اور اسے ابوجہل کے دونوں کانوں کے درمیان دے مارا، جس سے کمان کا سرا ٹوٹ گیا۔ پھر کہا: یہ لو کمان کی ضرب، اور ایک اور ضرب تلوار کی بھی، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے ابوعمارہ! اس نے تو ہمارے معبودوں کو گالی دی ہے، اگر یہ کام تم خود کرتے، اور تم اس سے بہتر ہو، تو بھی ہم اسے برداشت نہ کرتے، اور اے ابوعمارہ! تم تو کبھی بدزبان نہیں رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2912
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 139، حدیث 2925