المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حمزة بن عبد المطلب بن عبد مناف عم رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأم حمزة هالة بنت أهيب بن عبد مناف بن زهرة، شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويكنى أبا عمارة، ويقال: أبو يعلى " باب: سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب بن عبدمناف رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے چچا، ان کی والدہ ہالہ بنت اُہیب بن عبدمناف بن زہرہ تھیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے، کنیت ابوعمارہ، اور ابویعلیٰ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَالِي أَرَاكَ تَتُوقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا؟ قَالَ: «عِنْدَكَ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ. قَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ قریش میں مائل ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حمزہ کی بیٹی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“