حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَالِي أَرَاكَ تَتُوقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا؟ قَالَ: «عِنْدَكَ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ. قَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»
ترجمہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ قریش میں مائل ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حمزہ کی بیٹی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2908
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 139، حدیث 2921