المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن الحسين عن أبيه رضي الله عنهم باب: علی بن حسین کی اپنے والد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَازِنِيُّ، ثنا أَرْطَأَةُ بْنُ الْأَشْعَثِ الْعَدَوِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَعِنْدَهُ ابْنُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ. فَقُلْتُ: قَدْ تَغَدَّيْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ. فَقَالَ لِي: إِنَّهُ هِنْدِبَاءُ. قُلْتُ: يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، وَمَا فِي الْهِنْدِبَاءِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ وَرَقَةٍ مِنْ وَرَقِ الْهِنْدِبَاءِ إِلَّا وَعَلَيْهَا قَطْرَةٌ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ»
ثُمَّ أَتَى بِدُهْنٍ، فَقَالَ: ادَّهِنْ. فَقُلْتُ: قَدِ ادَّهَنْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ. قَالَ: إِنَّهُ بَنَفْسَجٌ. قُلْتُ: وَمَا فِي الْبَنَفْسَجِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فَضْلَ الْبَنَفْسَجِ عَلَى سَائِرِ الْأَدَهْانِ كَفَضْلِ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ فَضْلَ دُهْنِ الْبَنَفْسَجِ كَفَضْلِ الْإِسْلَامِ عَلَى سَائِرِ الْأَدْيَانِ»راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (امام محمد باقر سے) عرض کیا: اے ابن رسول اللہ! میں کھانا کھا چکا ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا: یہ تو ہندباء (کاسنی) ہے۔ میں نے عرض کیا: اے ابن رسول اللہ! ہندباء میں کیا خاصیت ہے؟ فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہندباء کے پتوں میں سے کوئی پتہ ایسا نہیں جس پر جنت کے پانی کا ایک قطرہ نہ ہو۔“
پھر تیل لایا گیا، تو انہوں نے فرمایا: تیل لگاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے ابن رسول اللہ! میں تیل لگا چکا ہوں۔ فرمایا: یہ تو بنفشہ کا تیل ہے۔ میں نے عرض کیا: بنفشہ میں کیا خاصیت ہے؟ فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا سے بیان کیا، فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنفشہ کے تیل کی باقی تمام تیلوں پر فضیلت ایسی ہی ہے جیسے عبدالمطلب کی اولاد کی باقی قریش پر فضیلت ہے، اور بنفشہ کے تیل کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے اسلام کی باقی تمام ادیان پر فضیلت ہے۔“