حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيَّ، مِنْ وَلَدِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ، يُنْشِدُ فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ، وَقَالَ هَذَا الشِّعْرَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "
[البحر البسيط]
مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ الرَّسُولُ لَكُمْ ... مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ
بِأَهْلِ بَيْتِي وَأَنْصَارِي وَذُرِّيَّتِي ... مِنْهُمْ أُسَارَى وقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ
مَا كَانَ ذَاكَ جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ ... أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي
فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ: " نَقُولُ: {ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [الأعراف: ٢٣] "
ترجمہ

زکریا بن یحییٰ الساجی بیان کرتے ہیں: میں نے احمد بن محمد بن حمید جہمی کو، جو ابوجہم بن حذیفہ کی اولاد میں سے تھے، حسین کے قتل پر یہ اشعار پڑھتے سنا، اور کہا کہ یہ شعر زینب بنت عقیل بن ابی طالب کے ہیں: ”تم کیا جواب دو گے اگر رسول اللہ ﷺ تم سے پوچھیں کہ تم نے کیا کیا، جبکہ تم امتوں میں سب سے آخری ہو؟
میرے اہل بیت، میرے مددگاروں اور میری اولاد کے ساتھ، جن میں سے کچھ قیدی بنائے گئے اور کچھ خون میں لت پت مقتول ہوئے۔
یہ میرا صلہ نہ تھا جب میں نے تمہیں نصیحت کی تھی کہ تم میرے قرابت داروں کے ساتھ برا سلوک نہ کرنا۔“
اس پر ابوالاسود دؤلی نے کہا: ہم یہی کہتے ہیں: ”ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے“ [الاعراف: 23]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2862
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 124، حدیث 2875