حدیث نمبر: 2846
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ، فَقُلْتُ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَكْتُ بِيَدِي فِي رَأْسِكَ. قَالَ: فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ: «لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللهِ وَرَسُولِهِ» . قَالَ: فَذَلِكَ الَّذِي سَلَى بِنَفْسِي عَنْهُ
ترجمہ

طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: حسین نے مجھ سے (کوفہ کی طرف) نکلنے کی اجازت مانگی، تو میں نے کہا: اگر یہ بات مجھے یا تمہیں شرمندہ نہ کرتی تو میں اپنا ہاتھ تمہارے سر میں پھنسا لیتا۔ ابن عباس کہتے ہیں: تو انہوں نے جواب میں کہا: ”فلاں جگہ میرا قتل کر دیا جانا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میری وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کی حرمت کو پامال کیا جائے۔“ ابن عباس کہتے ہیں: بس یہی بات تھی جس نے مجھے ان کے بارے میں فکر سے مطمئن کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2846
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 119، حدیث 2859