المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2844
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ أَبِي، قَالَتْ: «شَهِدَ رَجُلَانِ مِنَ الْجُعْفِيِّينَ قَتْلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ» . قَالَتْ: «وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَطَالَ ذَكَرُهُ حَتَّى كَانَ يَلُفُّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَسْتَقْبِلُ الرَّاوِيَةَ بِفِيهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى آخِرِهَا» . قَالَ سُفْيَانُ: «رَأَيْتُ وَلَدَ أَحَدِهِمَا كَأَنَّ لَهُ خَبْلًا، وَكَأَنَّهُ مَجْنُونٌ»ترجمہ
راوی کی دادی (ام ابی) بیان کرتی ہیں: دو جعفی قبیلے کے آدمی حسین بن علی کے قتل میں شریک تھے۔ ان میں سے ایک کا عضوِ تناسل اتنا بڑھ گیا کہ وہ اسے لپیٹ کر رکھتا تھا، اور دوسرا مشکیزے کا منہ اپنے منہ سے لگا کر اسے آخر تک بغیر رکے پی جاتا تھا۔ سفیان (بن عیینہ) کہتے ہیں: ”میں نے ان میں سے ایک کی اولاد کو دیکھا، گویا اسے کوئی دماغی خلل تھا، جیسے وہ دیوانہ ہو۔“