المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2843
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، أَنَا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ: أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَخْبَرْتَنِي أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ؟ قَالَ: قُلْتُ: «لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٌ» . فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِترجمہ
زہری بیان کرتے ہیں: عبدالملک بن مروان نے مجھ سے کہا: تم کتنے بڑے (عالم) ہو، اگر مجھے بتاؤ کہ جس دن حسین بن علی شہید کیے گئے اس دن کیا نشانی ظاہر ہوئی تھی؟ میں نے کہا: بیت المقدس میں کوئی کنکر نہیں اٹھایا گیا مگر اس کے نیچے سے تازہ خون نکلا۔ اس پر عبدالملک نے کہا: میں اور تم اس روایت میں ایک جیسے ساتھی ہیں۔