المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو ليلى عن الحسن بن علي رضي الله عنه باب: ابولیلیٰ کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنَسُ انْطَلِقْ فَادْعُ لِي سَيِّدَ الْعَرَبِ» - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَلَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ» . فَلَمَّا جَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَأَتَوْهُ، فَقَالَ لَهُمْ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «هَذَا عَلِيٌّ فَأَحِبُّوهُ بِحُبِّي، وَكَرِّمُوهُ لِكَرَامَتي، فَإِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِالَّذِي قُلْتُ لَكُمْ عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! جاؤ اور عرب کے سردار کو میرے پاس بلا لاؤ“ - یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ - تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا آپ عرب کے سردار نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور علی عرب کا سردار ہے۔“ تو جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار کی طرف پیغام بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے گروہ انصار! کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے تھامے رکھو تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ علی ہے، تو اس سے میری محبت کی خاطر محبت کرو، اور میری عزت کی خاطر اس کی عزت کرو، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے مجھے اللہ عزوجل کی طرف سے یہی حکم دیا ہے جو میں نے تم سے کہا۔“