المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن سيرين عن الحسن بن علي رضي الله عنه باب: محمد بن سیرین کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَوْ نَظَرْتُمْ مَا بَيْنَ جَابَرْسَ إِلَى جَابَلْقَ مَا وَجَدْتُمْ رَجُلًا جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي وَأَخِي، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْتَمِعُوا عَلَى مُعَاوِيَةَ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١] ". قَالَ مَعْمَرٌ: " جَابَرْسُ وَجَابَلْقُ: الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ "ترجمہ
ابن سیرین کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم جابرس سے جابلق تک دیکھو تو مجھے اور میرے بھائی کے سوا کوئی ایسا شخص نہ پاؤ گے جس کا نانا نبی ہو، اور میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ تم معاویہ پر متفق ہو جاؤ، ”اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک مدت تک کے لیے فائدہ اٹھانا ہو“ [سورۃ الانبیاء: 111]۔“ معمر کہتے ہیں: ”جابرس اور جابلق مشرق اور مغرب کے (آخری کناروں پر واقع فرضی) شہر ہیں۔“