المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الحوراء عن الحسن بن علي رضي الله عنه باب: ابوالحوراء کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مِثْلَ مَا كُنْتَ يَوْمَ مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَمَا تَعْقِلُ مِنْهُ؟ عَقَلْتُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ يَوْمًا، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: دَعْ مَا يَرِيبُكُ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكُ؛ فَإِنَّ الشَّرَّ رِيبَةٌ، وَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ، وَعَقَلْتُ عَنْهُ أَنِّي مَرَرْتُ بِهِ يَوْمًا وَبَيْنَ يَدَيْهِ فِي جُرْنٍ مِنْ جِرَانِ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَطَرَحْتُها فِي فِيَّ، فَأَخَذَ بِقَفَايَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيَّ فَانْتَزَعَهَا بِلُعَابِهَا، ثُمَّ طَرَحَهَا فِي الْجُرْنِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: لَوْ تَرَكْتَ الْغُلَامَ فَأَكَلَهَا؟ فَقَالَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ» . قَالَ: وَعَلَّمَنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي آخِرِ الْقُنُوتِ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ»… تو میں نے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی، تو آپ ﷺ نے میری گدی سے مجھے پکڑا، پھر اپنا ہاتھ میرے منہ میں ڈالا اور اسے لعاب سمیت نکال لیا، پھر اسے کھلیان کے ڈھیر میں ڈال دیا، تو آپ کے صحابہ نے آپ سے عرض کیا: کاش آپ بچے کو چھوڑ دیتے کہ وہ اسے کھا لیتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آلِ محمد پر صدقہ حلال نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جو میں قنوت کے آخر میں دعا کے طور پر کہتا ہوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، اور جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“