❮
❯
حدیث نمبر: 2697
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّنِي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ، فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَجَعَلَهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ؟ فَقَالَ: «إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ»
ترجمہ

ابوالحوراء رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ کو رسول اللہ ﷺ کی کون سی بات یاد ہے؟ فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات یاد ہے کہ میں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں رکھ لی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اس کے لعاب سمیت نکال لیا، پھر اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، اس بچے کو اس ایک کھجور سے کیا نقصان ہوتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم آلِ محمد پر صدقہ حلال نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2697
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 76، حدیث 2710