❮
❯
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مُحْرِمًا فَرَأَيْتُ ظَبْيًا فَرَمَيْتُهُ، فَأَصَبْتُ خَشَشَاهُ - يَعْنِي أَصْلَ قَرْنِهِ - فَرَكِبَ رَدْعَهُ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ، فَوَجَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ رَجُلًا أَبْيَضَ رَقِيقَ الْوَجْهِ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَالْتَفَتَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: «تَرَى شَاةً تَكْفِيهِ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَ شَاةً، فَقُمْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ صَاحِبٌ لِي: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُحْسِنْ يُفْتِيكَ، حَتَّى سَأَلَ الرَّجُلَ، فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْضَ كَلَامِهِ، فَعَلَاهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ ضَرْبًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ لِيَضْرِبَنِي، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي لَمْ أَقُلْ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ قَالَهُ، فَتَرَكَنِي، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّ الْفُتْيَا» ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَشَرَةَ أَخْلَاقٍ: تِسْعَةٌ حَسَنَةٌ، وَوَاحِدَةٌ سَيِّئَةٌ يُفْسِدُهَا ذَلِكَ السَّيِّءُ "، ثُمَّ قَالَ: «وَإِيَّاكَ وَعِشْرَةَ الشَّبَابِ»
ترجمہ

قبیصہ بن جابر الاسدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں احرام کی حالت میں تھا کہ میں نے ایک ہرن دیکھا تو اس پر تیر چلایا، تو میرا تیر اس کے سینگ کی جڑ میں لگا، تو وہ (مر کر) منہ کے بل گر پڑا۔ اس سے میرے دل میں کچھ (خلجان) پیدا ہوا، تو میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان سے پوچھنے کے لیے آیا، میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک سفید، نرم چہرے والا آدمی پایا، دیکھا تو وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اپنا مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے عبدالرحمٰن کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ”کیا تمہاری رائے میں ایک بکری اسے کافی ہو گی؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو عمر نے مجھے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ ہم ان کے پاس سے اٹھے تو میرے ایک ساتھی نے کہا: امیر المومنین (خود) تمہیں اچھی طرح فتویٰ نہ دے سکے یہاں تک کہ انہوں نے اس آدمی (عبدالرحمٰن) سے پوچھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی کچھ بات سن لی، تو انہوں نے اسے کوڑے سے مارنا شروع کر دیا، پھر میری طرف متوجہ ہوئے تاکہ مجھے بھی ماریں، تو میں نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے کچھ نہیں کہا، یہ بات اسی نے کہی ہے۔ تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے فرمایا: ”تم نے چاہا کہ حالت احرام میں شکار بھی مارو اور فتویٰ سے بھی تجاوز کرو!“ پھر فرمایا: ”انسان میں دس خصلتیں ہوتی ہیں: نو اچھی اور ایک بری، اور وہ ایک بری خصلت باقی سب کو خراب کر دیتی ہے۔“ پھر فرمایا: ”اور نوجوانوں کی صحبت سے بچو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 257
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 127، حدیث 258