حدیث نمبر: 2546
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّخِيلَةِ حِينَ صَالَحَهُ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِذَا كَانَ ذَا فَقُمْ فَتَكَلَّمْ، وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ سَلَّمْتَ هَذَا الْأَمْرَ لِي. وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: أَخْبِرِ النَّاسَ بِهَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تَرَكْتَهُ لِي. فَقَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ - قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَأَنَا أَسْمَعُ - ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التُّقَى، وَإِنَّ أَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ إِمَّا كَانَ حَقًّا لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَحَقْنِ دِمَائِهِمْ، أَوْ يَكُونُ حَقًّا كَانَ لِامْرِئٍ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١]
ترجمہ

شعبی کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو نخیلہ کے مقام پر اس وقت دیکھا جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کی، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”جب ایسا ہو جائے تو کھڑے ہو کر خطاب کرو، اور لوگوں کو بتاؤ کہ تم نے یہ معاملہ میرے سپرد کر دیا ہے۔“ (راوی سفیان کبھی یوں بھی کہتے تھے: لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں بتاؤ جو تم نے میرے لیے چھوڑ دیا ہے) تو وہ کھڑے ہوئے اور منبر پر خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی - شعبی کہتے ہیں: اور میں سن رہا تھا - پھر فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد: بے شک سب سے بڑی دانشمندی تقویٰ ہے، اور سب سے بڑی حماقت گناہ ہے، اور یہ معاملہ جس میں میرا اور معاویہ کا اختلاف ہوا، یا تو وہ میرا حق تھا جو میں نے اس امت کی اصلاح اور ان کا خون بہنے سے بچانے کی خاطر معاویہ کے لیے چھوڑ دیا، یا وہ کسی ایسے شخص کا حق تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا مستحق تھا، تو میں نے ایسا ہی کیا، ”اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک مدت تک کے لیے فائدہ اٹھانا ہو“ [سورۃ الانبیاء: 111]۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2546
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 26، حدیث 2559