حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ النَّهَارِ إِذْ جَاءَ نَاسٌ وَعَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، مُجْتَابِي النِّمَارِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ لَمَّا رَأَى بِهِمْ مِنَ الضُّرِّ، ثُمَّ قَالَ: «يَا بِلَالُ عَجِّلِ الصَّلَاةَ» ، فَلَمَّا صَلَّى قَعَدَ قَعْدَةً فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: {اتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: ١] «رَحِمَ اللهُ رَجُلًا تَصَدَّقَ مِنْ دِينَارِهِ وَدِرْهَمِهِ وَصَاعِ تَمْرِهِ» حَتَّى رَدَّ الصَّدَقَةَ إِلَى شَقِّ التَّمْرَةِ، وَكَانَ مِمَّنْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا، بَلْ عَجَزَتْ عَنْهَا لَا يَدْرِي أَذَهَبٌ أَمْ فِضَّةٌ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى جَمَعُوا كَوْمَيْنِ ضَخْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَلَمَّا انْتَهَتِ الصَّدَقَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي يَسْتَنُّ سُنَّةً حَسَنَةً، فَيُعْمَلُ بِهَا بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمَثَلُ أَجْرِ الَّذِينَ اسْتَنَّوْا بِسُنَّتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِثْلُ أَوْزَارِ الَّذِينَ اسْتَنَّوْا بِسُنَّتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»
ترجمہ

… پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس، تلواریں لٹکائے ہوئے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ دیکھا کہ ان کی تنگ دستی دیکھ کر متغیر ہو گیا، پھر فرمایا: ”اے بلال! نماز جلدی پڑھاؤ۔“ جب نماز پڑھا چکے تو ایک نشست میں بیٹھے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتوں کو کاٹنے سے بھی ڈرو، بےشک اللہ تم پر نگہبان ہے“ [سورۃ النساء: 1]، ”اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو اپنے دینار، اپنے درہم، اور اپنے کھجور کے صاع میں سے صدقہ کرے“ - یہاں تک کہ آپ ﷺ نے صدقے کو کھجور کے ایک ٹکڑے تک محدود کر دیا۔ انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کے پاس ایک پوٹلی تھی جو اس کی ہتھیلی سے بمشکل سنبھلتی تھی، بلکہ سنبھل ہی نہ سکی، اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ سونا ہے یا چاندی۔ پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے کھانے اور کپڑوں کے دو بڑے ڈھیر جمع کر لیے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمکتا دیکھا، گویا وہ سونے کا پانی چڑھا ہوا ہو۔ جب صدقہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے جو بھی کوئی اچھا طریقہ رائج کرے، اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کی سنت پر عمل کرنے والوں کا بھی اسی طرح کا اجر ملے گا، ان کے اجر میں کوئی کمی کیے بغیر۔ اور جو اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کی سنت پر عمل کرنے والوں کے گناہ کے برابر بھی، ان کے گناہ میں کوئی کمی کیے بغیر۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2361
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 329، حدیث 2374