المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 2306–2317) باب: (احادیث 2306 تا 2317)
حَدَّثَنَا علَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ مَاغمَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْهياجي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَوَاحِلِنَا مِنَ الْمَدِينَةِ وَهِي آكِلَةُ النَّوَى فَرَفَعَ لَهُ شَخَصٌ، فَقَالَ: «هَذَا رَجُلٌ لَا عَهْدَ لَهُ بِالطَّعَامِ» ، فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْرَ وَأَسْرَعْنَا مَعَهُ، فَإِذَا فَتًى شَابٌّ قَدِ اسْتَلْقَتْ شَفَتَاهُ مِنْ أَكْلِ لِحَى الشَّجَرِ فَسَأَلْهُ: «مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَتَ؟» فَقَالَ: أُرِيدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ، قَالَ: «فَأَنَا مُحَمَّدٌ أَنَا رَسُولُ اللهِ» ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ دُلَّنِي عَلَى الْإِسْلَامِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ وَتُقِرُّ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللهِ» قَالَ: أَقْرَرْتُ قَالَ: «وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ» ، قَالَ: أَقْرَرْتُ قَالَ: «وَتَصُومُ رَمَضَانَ» قَالَ: أَقْرَرْتُ قَالَ: «وَتَحُجُّ الْبَيْتَ» قَالَ: أَقْرَرْتُ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَرِيرٌ: وَازْدَحَمْنَا عَلَيْهِ حِينَ أَنْشَأَ يَصِفُ لَهُ الْإِسْلَامَ نَنْظُرُ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَنْتَهِي صِفَتُهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَانْصَرَفْنَا، فَوَقَعَتْ يَدُ بَكْرِهِ فِي أَخَافِيقِ الْجِرْذَانِ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عَلَيَّ الرَّجُلُ» فَوَجَدْنَاهُ قَدِ انْثَنَتْ عُنُقُهُ، فَمَاتَ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهُ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «احْمِلُوهُ إِلَى الْمَاءِ» فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَنَّطْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «احْفُرُوا لَهُ وَالْحِدُوا لَحْدًا فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَيْرِنَا» ، وَجَلَسَ عَلَى قَبْرِهِ لَا يُحَدِّثُنَا بِشَيْءٍ ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثِ هَذَا الرَّجُلِ؟ هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا مِمَّنْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} [الأنعام: ٨٢] إِنِّي أَعْرَضْتُ عَنْهُ وَمَلَكَانِ يَدُسَّانِ فِي فَمِهِ ثِمَارَ الْجَنَّةِ "سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اپنی سواریوں پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے نکلے، جبکہ وہ سواریاں گٹھلیاں کھانے والی تھیں۔ آپ ﷺ کو ایک آدمی نظر آیا تو فرمایا: ”یہ ایسا آدمی ہے جسے کھانا میسر نہیں رہا۔“ نبی کریم ﷺ نے تیزی سے چلنا شروع کیا اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تیز ہو گئے، تو دیکھا کہ ایک نوجوان ہے جس کے ہونٹ درخت کی چھال کھانے کی وجہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کہاں سے آ رہے ہو؟“ اس نے کہا: میں محمد ﷺ کے پاس جا رہا ہوں تاکہ ان سے بیعت کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہی محمد ہوں، میں اللہ کا رسول ہوں۔“ اس نے کہا: السلام علیکم، یا رسول اللہ! مجھے اسلام کی رہنمائی فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور جو کچھ اللہ کی طرف سے آیا ہے اس کا اقرار کرو۔“ اس نے کہا: میں اقرار کرتا ہوں۔ فرمایا: ”اور نماز قائم کرو۔“ اس نے کہا: میں اقرار کرتا ہوں۔ فرمایا: ”اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے کہا: میں اقرار کرتا ہوں۔ فرمایا: ”اور بیت اللہ کا حج کرو۔“ اس نے کہا: میں اقرار کرتا ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ واپس چل دیے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب آپ ﷺ اسے اسلام کی صفات بیان کر رہے تھے تو ہم آپ ﷺ کے گرد جمع ہو گئے تھے، یہ دیکھنے کے لیے کہ آپ ﷺ کا بیان کہاں تک پہنچتا ہے۔ پھر آپ ﷺ واپس چل دیے اور ہم بھی واپس چل دیے، تو اس نوجوان کے اونٹ کا پاؤں چوہوں کے بلوں میں پڑ گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے متوجہ ہو کر فرمایا: ”وہ آدمی میرے پاس لاؤ۔“ ہم نے اسے پایا کہ اس کی گردن مڑی ہوئی تھی اور وہ فوت ہو چکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے، اسے دیکھا، پھر اپنا چہرہ اس سے پھیر لیا اور فرمایا: ”اسے پانی کی طرف لے جاؤ۔“ چنانچہ ہم نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے قبر کھودو اور لحد بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے سوا دوسروں کے لیے ہے۔“ پھر آپ ﷺ اس کی قبر پر بیٹھ گئے، کچھ دیر ہم سے کچھ نہ فرمایا، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ ان لوگوں میں سے ہے جس نے تھوڑا عمل کیا اور اسے بہت اجر ملا، ان لوگوں میں سے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا: ”جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا“ [سورۃ الانعام: 82]۔ میں نے اس سے چہرہ پھیرا تو دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے تھے۔“