❮
❯
حدیث نمبر: 21908
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ: أَنَّهَا قَالَتْ: " تُوُفِّيَ ابْنِي، فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يُغَسِّلُهُ لَا تُغَسِّلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ، فَتَقْتُلَهُ فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَا قَالَتْ طَالَ عُمُرُهَا فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عَمَرَتْ مَا عَمَرَتْ "
ترجمہ

ابوالحسن، ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، ان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میرا بیٹا فوت ہو گیا تو میں اس پر بہت بے چین ہوئی، میں نے اسے غسل دینے والے سے کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دینا کہیں تم اسے مار نہ ڈالو۔ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ کو ان کی یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ مسکرائے، پھر فرمایا: ”اس نے کیا کہا! اس کی عمر دراز ہو۔“ (راوی کہتے ہیں:) ہم کسی ایسی عورت کو نہیں جانتے جس نے اتنی طویل عمر پائی ہو جتنی ام قیس رضی اللہ عنہا نے پائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21908
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 182، حدیث 446