المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم كبشة العذرية باب: سیدہ ام کبشہ عذریہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 21893
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، أَنَّ أُمَّ كَبْشَةَ امْرَأَةً مِنْ عُذْرَةَ قُضَاعَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَخْرُجَ فِي جَيْشِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: لَا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَيْسَ أُرِيدُ أَنْ أُقَاتِلَ إِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ أُدَاوِيَ الْجَرْحَى وَالْمَرْضَى، أَوْ أَسْقِي الْمَرْضَى. قَالَ: لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً، وَأَنْ يُقَالَ: فُلَانَةُ خَرَجَتْ لَأَذِنْتُ لَكِ وَلَكِنِ اجْلِسِي "ترجمہ
سیدہ ام کبشہ عذریہ رضی اللہ عنہا، جو قبیلہ قضاعہ کی عذرہ شاخ سے تھیں، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے فلاں فلاں لشکر کے ساتھ نکلنے کی اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں لڑنا نہیں چاہتی، بلکہ زخمیوں اور بیماروں کا علاج کرنا اور بیماروں کو پانی پلانا چاہتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ ایک رسم بن جانے اور یہ کہے جانے کا خدشہ نہ ہوتا کہ فلاں عورت بھی نکلی تھی، تو میں تمہیں اجازت دے دیتا، لیکن تم بیٹھی رہو۔“