المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم عبد الله امرأة أبي موسى الأشعري باب: سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ تَقِيَّةٌ، فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لَتَبْكِي أَوْ تَهُمُّ بِهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى: أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى فَسَكَتَتْ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو مُوسَى قَالَ يَزِيدُ: لَقِيتُ امْرَأَتَهُ، فَقُلْتُ لَهَا قَوْلَ أَبِي مُوسَى أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَكَتَتْ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ»یزید بن اوس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ نزع کے عالم میں تھے، تو ان کی اہلیہ رونے یا بین کرنے لگیں، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے وہ نہیں سنا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر وہ خاموش ہو گئیں۔ پھر جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو یزید کہتے ہیں: میں ان کی اہلیہ سے ملا، تو میں نے انہیں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات یاد دلائی: کیا تم نے وہ نہیں سنا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؟ پھر وہ خاموش ہو گئیں، پھر کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بال منڈوائے، یا چیخے چلائے، یا کپڑے پھاڑے، وہ ہم میں سے نہیں۔“