المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم عثمان حبيبة بنت ميسرة بن خثيم ويقال ابن أبي خثيم ويقال بنت أبي خثيم باب: سیدہ ام عثمان، حبیبہ بنت میسرہ بن خثیم، رضی اللہ عنہا؛ انہیں ابن ابی خثیم کی بیٹی بھی کہا جاتا ہے، اور بعض کے نزدیک بنت ابی خثیم
حدیث نمبر: 21867
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ يَزْعُمُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا»ترجمہ
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقے کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں کوئی حرج نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ۔“