المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم عثمان حبيبة بنت ميسرة بن خثيم ويقال ابن أبي خثيم ويقال بنت أبي خثيم باب: سیدہ ام عثمان، حبیبہ بنت میسرہ بن خثیم، رضی اللہ عنہا؛ انہیں ابن ابی خثیم کی بیٹی بھی کہا جاتا ہے، اور بعض کے نزدیک بنت ابی خثیم
حدیث نمبر: 21868
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَيَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ: أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا»ترجمہ
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقے کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں کوئی حرج نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ۔“