حدیث نمبر: 21743
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: اصْنَعِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِنَفْسِهِ طَعَامًا يَأْكُلُ مِنْهُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: بَعَثَنِي إِلَيْكَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: قُومُوا فَلَقِيَنَا أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ طَعَامًا لِنَفْسِكَ خَاصَّةً، فَقَالَ: لَا عَلَيْكَ انْطَلِقْ بِنَا فَانْطَلَقَ الْقَوْمُ مَعَهُ فَجَاءَ بِالطَّعَامِ إِنَّمَا جَعَلَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ، وَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا، فَقَالَ: " كُلُوا بِسْمِ اللهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَامُوا وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، كَمَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى وَسَمَّى، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ قَالَ: حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكُوا سُؤْرًا "
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حکم دیا اور کہا: خاص رسول اللہ ﷺ کے لیے، صرف آپ ﷺ کی ذات کے لیے، ایسا کھانا بناؤ جسے وہ خود کھا سکیں۔ پھر ابوطلحہ نے مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس بھیجا، میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ابوطلحہ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو۔“ تو ابوطلحہ ہم سے ملے اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے تو یہ کھانا خاص آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، ہمیں لے چلو۔“ چنانچہ سب لوگ ان کے ساتھ چل پڑے، تو وہ کھانا لے آئے جو صرف نبی کریم ﷺ کے لیے بنایا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا اور بسم اللہ پڑھی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ انہیں اجازت دی گئی تو وہ اندر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بسم اللہ کہہ کر کھاؤ۔“ چنانچہ وہ کھا کر سیر ہوئے، پھر اٹھ گئے، اور نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اسی طرح رکھا جیسے پہلی مرتبہ کیا تھا اور بسم اللہ پڑھی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ راوی کہتے ہیں: یہاں تک کہ اسّی آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ اور گھر والوں نے کھایا اور کچھ کھانا بچا چھوڑا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21743
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 113، حدیث 281