حدیث نمبر: 21742
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، لَمَّا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاوِيًا، جَاءَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاوِيًا فَهَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: عِنْدَنَا نَحْوُ مُدَّيْنِ مِنْ دَقِيقِ شَعِيرٍ، قَالَ: فَاعْجِنِيهِ وَاطْبُخِيهِ عَسَى أَنْ نَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ فَعَجَنْتَهُ وَخَبَزَتْهُ وَجَاءَ قُرْصٌ فَقَالَ لِي ادْعُ رَسُولَ اللهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُنَاسٌ أَحْسِبُهُ، قَالَ: بَضْعَةً وَثَمَانِينَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَبُو طَلْحَةَ يَدْعُوكَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَجِيبُوا أَبَا طَلْحَةَ فَجِئْتُ مُسْرِعًا حَتَّى أَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ: وَاللهِ لَرَسُولُ اللهِ أَعْلَمُ بِمَا فِي بَيْتِي مِنِّي فَاسْتَقْبَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدَنَا إِلَّا قُرْصٌ رَأَيْتُكَ طَاوِيًا، فَأَمَرْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَجَعَلَتْ لَكَ قُرْصًا فَدَعَا بِالْقُرْصِ، وَدَعَا بِجَفْنَةٍ، فَوَضَعَهُ فِيهَا وَقَالَ: هَلْ مِنْ سَمْنٍ؟ فَقَالَ: أَبُو طَلْحَةَ قَدْ كَانَ فِي الْعُكَّةِ شَيْءٌ قَالَ: فَجَاءَ بِهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ يَعْصِرَانِهَا حَتَّى خَرَجَ شَيْءٌ فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ سَبَّابَتَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِالْقُرْصِ، ثُمَّ قَالَ: " بِسْمِ اللهِ فَانْتَفَخَ الْقُرْصُ فَلَمْ يَزَلْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَالْقُرْصُ يَنْتَفِخُ حَتَّى رَأَيْتُ الْقُرْصَ فِي الْجَفْنَةِ يَتَمَيَّعُ فَقَالَ: ادْعُ لِي عَشَرَةً مِنْ أَصْحَابِي فَدَعَوْتُ لَهُ عَشَرَةً، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْصَ وَقَالَ: كُلُوا بِسْمِ اللهِ فَأَكَلُوا مِنْ حَوَالِيِّ الْقُرْصِ حَتَّى شَبِعُوا، فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ ذَلِكَ الْقُرْصَ حَتَّى أَكَلَ مِنْهُ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ حَوَالَيِّ الْقُرْصِ حَتَّى شَبِعُوا قَالَ: وَإِنَّ وَسَطَ الْقُرْصِ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَمَا هُوَ
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ ﷺ کو بھوک کی حالت میں دیکھا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو بھوک کی حالت میں دیکھا ہے، کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس تقریباً دو مُد جَو کا آٹا ہے۔ انہوں نے کہا: اسے گوندھ کر پکا لو، شاید ہم نبی کریم ﷺ کو بلا سکیں تاکہ وہ اس میں سے کھا لیں۔ چنانچہ انہوں نے اسے گوندھا اور روٹی پکائی، اور ایک روٹی بن گئی۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کو بلا لاؤ۔ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ کے ساتھ کچھ لوگ تھے، میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا: اسّی کے لگ بھگ۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابوطلحہ آپ کو بلا رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”ابوطلحہ کی دعوت قبول کرو۔“ میں جلدی سے واپس آیا اور انہیں بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی آ رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں جو کچھ ہے اسے مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ ابوطلحہ ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھے اور کہا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس بس ایک روٹی ہے، میں نے آپ کو بھوک کی حالت میں دیکھا تھا تو میں نے ام سلیم کو حکم دیا کہ وہ آپ کے لیے ایک روٹی بنائیں۔ آپ ﷺ نے روٹی منگوائی اور ایک بڑا برتن منگوایا، اس میں روٹی رکھی اور پوچھا: ”کیا گھی ہے؟“ ابوطلحہ نے کہا: مشک میں کچھ ہے۔ چنانچہ وہ لے آئے، تو نبی کریم ﷺ اور ابوطلحہ اسے نچوڑنے لگے یہاں تک کہ اس میں سے کچھ نکلا، نبی کریم ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی سے اسے اٹھایا، پھر روٹی پر مل دیا، پھر فرمایا: ”بسم اللہ۔“ تو روٹی پھول گئی۔ آپ ﷺ ایسا کرتے رہے اور روٹی پھولتی رہی یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ روٹی برتن میں پھیل کر نرم ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے دس ساتھیوں کو بلاؤ۔“ میں نے دس کو بلایا، تو نبی کریم ﷺ نے روٹی رکھی اور فرمایا: ”بسم اللہ کہہ کر کھاؤ۔“ تو وہ روٹی کے اردگرد سے کھانے لگے یہاں تک کہ سیر ہو گئے۔ آپ ﷺ اسی طرح دس دس کر کے بلاتے رہے، وہ اس روٹی میں سے کھاتے رہے یہاں تک کہ اسّی کے قریب آدمیوں نے اس روٹی کے اردگرد سے کھایا اور سیر ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: اور روٹی کا وہ حصہ جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا تھا، ویسے کا ویسا رہا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21742
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 111، حدیث 280