حدیث نمبر: 2173
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلًى لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يُصَلِّي وَلَا يَنَامُ وَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ، فَقَالَ: «أَنَا أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَلِكُلِّ عَمِلٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَمَنْ يَكُنْ فَتْرَتُهُ إِلَى السُّنَّةِ فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ يَكُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ»
ترجمہ

سیدنا جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے بنو عبدالمطلب کے ایک غلام کا ذکر کیا گیا جو مسلسل نماز پڑھتا اور سوتا نہیں، اور روزہ رکھتا اور افطار نہیں کرتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، ہر عمل کا ایک جوش ہوتا ہے اور ہر جوش کے بعد ایک ٹھہراؤ آتا ہے، تو جس کا ٹھہراؤ سنت کی طرف ہو وہ ہدایت پا گیا، اور جس کا ٹھہراؤ اس کے سوا کسی اور طرف ہو وہ گمراہ ہو گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2173
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 284، حدیث 2186