المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم المنذر الأنصارية يقال اسمها سلمى بنت قيس باب: سیدہ ام منذر انصاریہ رضی اللہ عنہا، کہا جاتا ہے ان کا نام سلمیٰ بنت قیس تھا
حدیث نمبر: 21720
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَهُوَ نَاقِهٌ قَالَتْ: وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ، قَالَتْ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَقَامَ عَلِيُّ يَأْكُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا فَإِنَّكَ نَاقِهٌ قَالَتْ: فَجَلَسَ عَلِيٌّ، فَأَكَلَ مِنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَعَلْتُ لَهُمِ سِلْقًا، وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ هَذَا أَصِبْ»ترجمہ
سیدہ ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور علی رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے، اور وہ نقاہت کی حالت میں تھے۔ وہ کہتی ہیں: ہمارے پاس (پکے ہوئے) لٹکتے ہوئے خوشے تھے۔ وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر کھانے لگے اور علی رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہو کر کھانے لگے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو، تم ابھی صحت یاب ہو رہے ہو۔“ وہ کہتی ہیں: تو علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے، اور نبی کریم ﷺ نے اس میں سے کھایا۔ پھر میں نے ان کے لیے چقندر کے پتے اور جَو تیار کیے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسی میں سے کھاؤ۔“