حدیث نمبر: 21702
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفُضَيْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: مَنْ تُرَوْنَ تَكْسُو هَذِهِ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِي أَحْمِلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ، فَأَلْبَسَنِي إِيَّاهَا، فَقَالَ: " أَبْلِي وَأَخْلِقِي، أَبْلِي وَأَخْلِقِي، قَالَتْ: فَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذِهِ سَنَاهُ " وَسَنَاهُ بِالْحَبَشِيَّةِ: حَسَنٌ
ترجمہ

سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک چھوٹی خمیصہ (چادر) بھی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے خیال میں یہ کسے پہنائی جائے؟“ لوگ خاموش رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام خالد کو میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ مجھے گود میں اٹھا کر لایا گیا، تو آپ ﷺ نے خمیصہ اپنے ہاتھ سے پکڑی اور مجھے پہنا دی، اور فرمایا: ”پہنو اور پرانی کرو، پہنو اور پرانی کرو۔“ وہ کہتی ہیں: اس میں سبز یا زرد رنگ کا نشان تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام خالد! یہ سَناہ ہے۔“ اور سَناہ حبشی زبان میں ”حسن (خوبصورت)“ کے معنی میں ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21702
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 94، حدیث 240