حدیث نمبر: 21693
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: " أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، وَصَلَّى صَلَاةً لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهَا، وَلَا سُجُودَهَا، فَدَعَاهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ سَلَّمَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَتَحْسَبُ أَنَّكَ صَلَّيْتَ؟ إِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَعُدْ لِصَلَاتِكَ، فَلَمَّا وَلَّى الْحَجَّاجُ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: هَذَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيمَنَ، فَقَالَ: لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ فَذَكَرَ حُبَّهُ مَا وَلَدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ وَكَانَتْ حَاضِنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ

حرملہ، آزاد کردہ غلام اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما، بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن آئے اور ایسی نماز پڑھی جس کا رکوع اور سجدہ مکمل نہیں تھا۔ جب اس نے سلام پھیرا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلایا اور کہا: بھتیجے! کیا تم سمجھتے ہو کہ تم نے نماز پڑھ لی؟ تم نے نماز نہیں پڑھی، دوبارہ اپنی نماز پڑھو۔ جب حجاج چلا گیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: یہ کون تھا؟ میں نے کہا: یہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن ہے۔ انہوں نے کہا: اگر رسول اللہ ﷺ اسے دیکھتے تو اس سے محبت کرتے، پھر انہوں نے اس محبت کا ذکر کیا جو آپ ﷺ کو ام ایمن رضی اللہ عنہا کی اولاد سے تھی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کی دایہ تھیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21693
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 90، حدیث 231