المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب من يعرف من النساء بالكنى لمن لم ينته إلينا أسماؤهن ممن لهن صحبة فمنهن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط امرأة عبد الرحمن بن عوف — ما أسندت أم أيمن باب: وہ خواتین جو کنیتوں سے معروف ہیں اور جن کے اصل نام ہم تک نہیں پہنچے، صحابیات میں سے تھیں؛ انہی میں سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ، بھی شامل ہیں — سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی مرویات
حدیث نمبر: 21692
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ، قَالَتْ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى فَخَّارَةٍ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فِيهَا فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا عَطْشَانَةُ فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا، وَأَنَا لَا أَشْعُرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، قَوْمِي فَأَهْرِيقِي مَا فِي تِلْكَ الْفَخَّارَةِ» قُلْتُ: قَدْ وَاللهِ شَرِبْتُ مَا فِيهَا، قَالَتْ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّكِ لَا تَتَّجِعِينَ بَطْنَكِ أَبَدًا»ترجمہ
… (سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ) نبی کریم ﷺ نے رات کے وقت گھر کے ایک کونے میں رکھے ہوئے مٹی کے برتن میں پیشاب کیا، تو میں رات کو اٹھی، اور مجھے پیاس لگی ہوئی تھی، چنانچہ میں نے اس میں جو کچھ تھا وہ پی لیا، اور مجھے اس کی حقیقت کا پتہ نہیں تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے صبح کی تو فرمایا: ”اے ام ایمن! اٹھو اور اس برتن میں جو کچھ ہے اسے بہا دو۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم، میں تو اس میں جو کچھ تھا وہ پی چکی ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، پھر فرمایا: ”سن لو، اب تمہیں کبھی پیٹ کا درد نہیں ہوگا۔“