حدیث نمبر: 21549
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اغْسِلُوهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، وَاغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَائْذَنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، قَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، قَالَتْ: جَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَرْسَلْنَاهُنَّ مِنْ خَلْفِهَا، قَالَتْ: وَالْحَقْوُ إِزَارٌ صَغِيرٌ "
ترجمہ

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں تین بار، پانچ بار یا اس سے زیادہ بار غسل دو، اگر تم مناسب سمجھو، اور انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اور آخری بار میں کچھ کافور شامل کر لو، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ۔“ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: ”اسے یہ پہنا دو۔“ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کے سر کو تین لٹوں میں تقسیم کیا اور انہیں ان کے پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ کہتی ہیں: الحقو ایک چھوٹا تہبند ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21549
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 45، حدیث 86