حدیث نمبر: 21548
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، حِ وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَدَوِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا " دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ النِّسَاءَ فِي بَيْتٍ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ لِأُبَايِعَكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيَكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ، وَلَا تَعْصِينَهُ فِي مَعْرُوفٍ، قَالَتْ فَأَخْرَجْنَا أَيْدِينَا مِنْ خَارِجِ الْبَابِ وَأَخْرَجَ يَدَهُ، فَبَايَعْنَاهُ قَالَتْ: وَأَمَرَنَا أَنْ نَخْرُجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ، وَنَهَانَا أَنَّ نَخْرُجَ فِي جَنَازَةٍ أَوْ نَأْتِيَ جُمُعَةً، فَقُلْتُ لَهَا: مَا لَا تَعْصِينَهُ، قَالَتْ: النَّوْحُ "
ترجمہ

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا، پھر ہماری طرف عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ دروازے پر کھڑے ہوئے، سلام کیا، پھر فرمایا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تم سے اس بات پر بیعت لوں کہ تم چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، اپنے ہاتھوں اور پیروں کے آگے کوئی بہتان نہیں گھڑو گی جو تم خود گھڑ لو، اور نیکی کے کسی کام میں اس کی نافرمانی نہیں کرو گی۔ تو ہم نے دروازے کے باہر سے اپنے ہاتھ نکالے اور انہوں نے اپنا ہاتھ نکالا، پھر ہم نے ان سے بیعت کی۔ انہوں نے مزید کہا: اور آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم دونوں عیدوں میں جوان کنواری لڑکیاں اور حیض والی عورتیں بھی نکلیں، اور ہمیں منع کیا کہ ہم جنازے میں جائیں یا جمعہ میں حاضر ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا: وہ کیا کام ہے جس میں تم اس کی نافرمانی نہیں کرو گی؟ انہوں نے فرمایا: نوحہ کرنا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21548
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 45، حدیث 85