حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ الْوِتْرَ الْوِتْرَ» ، أَلَا وَإِنَّهُ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ
قَالَ أَبُو تَمِيمٌ: فَكُنْتُ أَنَا وَأَبُو ذَرٍّ قَاعِدَيْنَ فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عَمْرٍو فَقَالَ لَهُ أَبُو ذَرٍّ: يَا أَبَا بَصْرَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ الْوِتْرَ الْوِتْرَ» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ

راوی کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ عزوجل نے تمہیں ایک اور نماز عطا کی ہے، تو اسے عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان پڑھو، وتر، وتر (یعنی طاق رکعتوں میں)۔“ خبردار! وہ صحابی ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔
ابو تمیم کہتے ہیں: میں اور ابوذر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے، تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابوبصرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہم نے انہیں عمرو کے گھر کے پاس دروازے پر پایا، تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوبصرہ! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ نے تمہیں ایک اور نماز عطا کی ہے، تو اسے عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان پڑھو، وتر، وتر“؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم نے خود سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2154
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 279، حدیث 2167