المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ميمونة بنت كردم الثقفية باب: سیدہ میمونہ بنت کردم ثقفیہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 21536
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ، أَنَّهَا كَانَتْ رَدِيفَ أَبِيهَا، فَسَمِعَتْ أَبَاهَا يَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ: هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ طَاغِيَةٌ يُعْبَدُ، قَالَ: لَا، قَالَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ حَيْثُ نَذَرْتَ "ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ سوار تھیں، تو انہوں نے اپنے والد کو نبی کریم ﷺ سے یہ پوچھتے سنا: میں نے نذر مانی تھی کہ میں بوانہ میں قربانی کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہاں کوئی بت یا معبود پوجا جاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی نذر پوری کرو جہاں تم نے نذر مانی تھی۔“