المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
لبيسة بنت كعب ويقال بنت حرب أم عمارة الأنصارية من بني النجار باب: سیدہ لبیسہ بنت کعب رضی اللہ عنہا، انہیں بنت حرب بھی کہا جاتا ہے، ام عمارہ انصاریہ، بنو نجار سے
حدیث نمبر: 21512
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ لَيْلَى، مَوْلَاةٍ لَهُمْ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ، فَدَعَاهَا تَأْكُلُ مَعَهُ فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ: إِنَّ «الصَّائِمَ إِذَا أَكَلَ فِي بَيْتِهِ، دَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ، حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ وَيَفْرَغُوا»ترجمہ
سیدہ ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے کھانا منگوایا، آپ ﷺ نے انہیں بھی اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی، تو انہوں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب روزہ دار کے گھر میں لوگ کھانا کھاتے ہیں تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا کھانا مکمل کر لیں اور فارغ ہو جائیں۔“