المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
قيلة أم بني أنمار باب: سیدہ قیلہ رضی اللہ عنہا، ام بنی انمار
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَعْيَنَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ قَيْلَةَ أُمِّ بَنِي أَنْمَارٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ يَحِلُّ مِنْ عُمْرَةٍ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشْتَرِي وَأَبِيعُ، فَرُبَّمَا " أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ السِّلْعَةَ فَأَسْتَامَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَهَا بِهِ، ثُمَّ أَنْقُصُ حَتَّى أَبِيعَهَا بِالَّذِي أُرِيدُ، وَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَ السِّلْعَةَ أَعْطَيْتُ بِهَا أَقَلَّ مِمَّا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهَا بِهِ، ثُمَّ أَزِيدُ حَتَّى آخِذَهَا بِالَّذِي أُرِيدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَفْعَلِي يَا قَيْلَةُ إِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبِيعِي السِّلْعَةَ فَاسْتَامِي بِهَا الَّذِي تُرِيدِينَ أَنْ تَبِيعِي بِهِ أَعْطَيْتِ أَوْ مَنَعْتِ، وَإِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَشْتَرِي السِّلْعَةَ فَأَعْطِي بِهَا الَّذِي تُرِيدِينَ أَنْ تَأْخُذِيهَا بِهِ أُعْطَيْتِ أَوْ مُنِعْتِسیدہ قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مروہ کے پاس عمرے سے حلال ہوتے دیکھا، تو میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایک ایسی عورت ہوں جو خرید و فروخت کرتی ہوں، بسا اوقات میں کوئی سامان بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے زیادہ مانگتی ہوں جس پر میں اسے بیچنا چاہتی ہوں، پھر کم کرتی جاتی ہوں یہاں تک کہ اسی قیمت پر بیچ دیتی ہوں جو میں چاہتی تھی، اور جب کوئی سامان خریدنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے کم دیتی ہوں جس پر میں اسے خریدنا چاہتی ہوں، پھر بڑھاتی جاتی ہوں یہاں تک کہ اسی قیمت پر خرید لیتی ہوں جو میں چاہتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے قیلہ! ایسا نہ کرو، جب سامان بیچنا چاہو تو اسی قیمت پر مانگو جس پر بیچنا چاہتی ہو، چاہے وہ دی جائے یا نہ دی جائے، اور جب سامان خریدنا چاہو تو اسی قیمت کی پیشکش کرو جس پر خریدنا چاہتی ہو، چاہے وہ دی جائے یا نہ دی جائے۔“