المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
قيلة بنت مخرمة العنبرية باب: سیدہ قیلہ بنت مخرمہ عنبریہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، عَنْ قَيْلَةَ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ بَعْضَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُمْتُ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ طَوِيلَةً، فَقَالَ: إِنْ كَانَ ابْنُ هَذِهِ لَيُقَاتِلُ مِنْ وَرَاءِ الْحَاجِزِ قَالَتْ: وَاللهِ: إِنْ كَانَ لَكَذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَلَكِنَّهُ مَاتَ، قَالَتْ: اكْتُبْ لِي كِتَابًا، قَالَتْ: وَمَعِي ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَكَتَبَ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ لِقَيْلَةَ وَالنِّسْوَةِ الثَّلَاثِ: «لَا يُظْلَمْنَ حَقًّا وَلَا يُسْتَكْرَهْنَ عَلَى نِكَاحٍ، وَكُلُّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ لَهُنَّ وَلِيٌّ وَنَاصِرٌ أَحْسَنَّ فَلَا يُسِئْنَ»سیدہ قیلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز کا کچھ حصہ پڑھا، جب آپ ﷺ نے نماز پوری کر لی تو میں کھڑی ہوئی، آپ ﷺ نے میری طرف دیکھا — اور وہ دراز قد عورت تھیں — تو فرمایا: ”اس (عورت) کا بیٹا تو رکاوٹ کے پیچھے سے (دفاع میں) لڑنے والا ہوگا۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! وہ ایسا ہی تھا لیکن وہ فوت ہو گیا۔ انہوں نے عرض کیا: میرے لیے ایک تحریر لکھ دیجیے، اور کہتی ہیں: میرے ساتھ تین بیٹیاں تھیں۔ تو آپ ﷺ نے لکھا: ”محمد رسول اللہ کی طرف سے قیلہ اور تین عورتوں کے لیے: نہ ان کا کوئی حق چھینا جائے اور نہ انہیں نکاح پر مجبور کیا جائے، اور ہر مومن یا مسلمان ان کا ولی اور مددگار ہے، وہ (عورتیں) بھلائی کریں اور برائی نہ کریں۔“