المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الرحمن بن أبي رافع، عن أم هانئ باب: عبدالرحمن بن ابی رافع کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21428
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، خَرَجَتْ مُتَبَرِّجَةً قَدْ بَدَا قُرْطَاها، فَقَالَ لَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: اعْلَمِي فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يُغْنِي عَنْكِ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ شَفَاعَتِي لَا تَنَالُ أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّ شَفَاعَتِي تَنَالُ حا، وَحُكْمَ» حا، وَحُكْمَ قَبِيلَتَانِ "ترجمہ
عبدالرحمٰن بن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا زینت ظاہر کیے ہوئے باہر نکلیں، ان کی دونوں بالیاں نظر آ رہی تھیں، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جان لو کہ محمد ﷺ تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتے، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ کو یہ بات بتائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ گمان کرتے ہیں میری شفاعت میرے اہل بیت تک نہیں پہنچتی، حالانکہ میری شفاعت حا اور حکم تک بھی پہنچتی ہے۔“
حا اور حکم دو قبیلوں کے نام ہیں۔