المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
صالح مولى وجزة، عن أم هانئ باب: صالح، وجزہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى وَجْزَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ ثَقُلْتُ، فَعَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ، وَأَنَا جَالِسَةٌ، قَالَ: " قُولِي: اللهُ أَكْبَرُ مِائَةَ مَرَّةٍ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ مُجَلِّلَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ، وَقُولِي سُبْحَانَ اللهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ مِائَةِ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَقُولِي الْحَمْدُ لِلَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ مِائَةِ رَقَبَةٍ تُعْتِقِينَهَا مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَقُولِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مِائَةَ مَرَّةٍ لَا يَذَرُونَ دِينًا، وَلَا يَسْبِقُهُنَّ عَمَلٌ "سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایک ایسی عورت ہوں جو (اب) بھاری ہو گئی ہوں، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو میں بیٹھے بیٹھے کر سکوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سو بار اللہ اکبر کہو، یہ تمہارے لیے سو خوبصورت اور مقبول قربانی کے اونٹوں سے بہتر ہے، اور سو بار سبحان اللہ کہو، یہ تمہارے لیے سو زین اور لگام والے گھوڑوں سے بہتر ہے جن پر تم اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرو، اور سو بار الحمدللہ کہو، یہ تمہارے لیے بنی اسماعیل کی سو گردنیں آزاد کرنے سے بہتر ہے، اور سو بار اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں کہو، (اس کی برکت سے) کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا، اور کوئی عمل اس سے آگے نہیں بڑھے گا۔“