المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عكرمة، عن أم هانئ باب: عکرمہ کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُزَكِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بَهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا رِزْقُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: بَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ فِي بَيْتِي فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَامْتَنَعَ مِنِّي النَّوْمُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَهُ بَعْضُ قُرَيْشٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَخْرَجَنِي، فَإِذَا عَلَى الْبَيْتِ دَابَّةٌ دُونَ الْبَغْلِ، وَفَوْقَ الْحِمَارِ، فَحَمَلَنِي عَلَيْهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَأَرَانِي إِبْرَاهِيمَ يُشْبِهُ خَلْقَهُ خَلْقِي، وَيُشْبِهُ خَلْقِي خَلْقَهُ، وَأَرَانِي مُوسَى آدَمَ طَوِيلًا، سَبْطَ الشَّعْرِ، شَبَّهْتُهُ بِرِجَالِ أَزْدٍ شَنُوءَةً، وَأَرَانِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَبْعَةَ أَبْيَضَ، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ شَبَّهْتُهُ بِعُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ، وَأَرَانِي الدَّجَّالَ مَمْسُوحَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، شَبَّهْتُهُ بِقَطَنِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى قُرَيْشٍ، فَأُخْبِرُهُمْ بِمَا رَأَيْتُ فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُذَكِّرُكَ اللهَ أَنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا يَذُبُّونَكَ وَيُنْكِرُونَ مَقَالَتَكَ، فَأَخَافُ أَنْ يَسْطُوا بِكَ، قَالَتْ: فَضَرَبَ ثَوْبَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَأَتَاهُمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَأَخْبَرَهُمْ مَا أَخْبَرَنِي "، فَقَامَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ لَوْ كُنْتُ شَابًّا كَمَا كُنْتُ مَا تَكَلَّمَتَ بِهِ، وَأَنْتَ بَيْنَ ظَهْرَانِيْنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لَنَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ وَاللهِ، وَجَدْتُهُمْ قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ فَهُمْ فِي طَلَبِهِ» ، فَقَالَ: هَلْ مَرَرْتَ بِإِبِلٍ لِبَنِي فُلَانٍ، قَالَ: «نَعَمْ، فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا قَدِ انْكَسَرَتْ لَهُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ فَوَجَدْتُهُمْ، وَعِنْدَهُمْ قَصْعَةٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا» ، قَالُوا: فَأَخْبِرْنَا عِدَّتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ، قَالَ: «قَدْ كُنْتُ عَنْ عِدَّتِهَا مَشْغُولًا» ، فَقَامَ فَأُتِيَ بِالْإِبِلِ فَعَدَّهَا وَعَلِمَ مَا فِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ، ثُمَّ أَتَى قُرَيْشًا فَقَالَ: «سَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا، وَفِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وسَأَلْتُمُونِي عَنْ إِبِلِ بَنِي فُلَانٍ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا، وَفِيهَا مِنَ الرُّعَاةِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَهِيَ مُصَبِّحَتُكُمْ بِالْغَدَاةِ عَلَى الثَّنِيَّةِ» ، قَالَ: فَغَدَوْا إِلَى الثَّنِيَّةِ يَنْظُرُونَ أَصْدَقَهُمْ مَا قَالَ، فاسْتَقْبَلُوا الْإِبِلَ، فَسَأَلُوا هَلْ ضَلَّ لَكُمْ بَعِيرٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَسَأَلُوا الْآخَرَ هَلِ انْكَسَرَتْ لَكُمْ نَاقَةٌ حَمْرَاءُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالُوا: فَهَلْ كَانَتْ عِنْدَكُمْ قَصْعَةٌ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَاللهِ وَضَعْتُهَا فَمَا شَرِبَهَا أَحَدٌ وَلَا هَرَاقُوهُ فِي الْأَرْضِ، وَصَدَّقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَآمَنَ بِهِ فَسُمِّيَ يَوْمَئِذٍ الصِّدِّيقَعکرمہ رحمہ اللہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: جس رات رسول اللہ ﷺ کو اسراء کرایا گیا، آپ ﷺ نے وہ رات میرے گھر میں گزاری، تو رات کے کسی حصے میں آپ ﷺ کو نہ پا کر مجھے نیند نہ آئی، اس خدشے سے کہ کہیں قریش میں سے کسی نے آپ ﷺ کو تعرض نہ کیا ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل میرے پاس آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے باہر لے گئے، تو گھر کے پاس ایک سواری تھی جو خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی تھی، تو انہوں نے مجھے اس پر سوار کیا، پھر روانہ ہوئے یہاں تک کہ مجھے بیت المقدس تک پہنچایا، تو مجھے ابراہیم علیہ السلام دکھائے، ان کی صورت میری صورت سے، اور میری صورت ان کی صورت سے ملتی جلتی تھی، اور مجھے موسیٰ علیہ السلام دکھائے، جو گندمی رنگ کے، لمبے قد کے، سیدھے بالوں والے تھے، میں نے انہیں ازد شنوءہ کے مردوں سے تشبیہ دی، اور مجھے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دکھائے، جو درمیانے قد کے، سرخی مائل سفید رنگت والے تھے، میں نے انہیں عروہ بن مسعود ثقفی سے تشبیہ دی، اور مجھے دجال دکھایا، جس کی دائیں آنکھ مسخ شدہ تھی، میں نے اسے قطن بن عبدالعزی سے تشبیہ دی، اور میں نے چاہا کہ نکل کر قریش کو جا بتاؤں جو کچھ میں نے دیکھا۔“ (سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) تو میں نے آپ ﷺ کا کپڑا پکڑ لیا، اور کہا: میں آپ کو اللہ کی یاد دلاتی ہوں، آپ ایسی قوم کے پاس جانے والے ہیں جو آپ کو دھتکاریں گے اور آپ کی بات کا انکار کریں گے، تو مجھے خدشہ ہے کہ وہ آپ پر حملہ نہ کر دیں۔ وہ کہتی ہیں: تو آپ ﷺ نے اپنا کپڑا میرے ہاتھ سے چھڑایا، پھر ان کے پاس نکل گئے، تو آپ ﷺ ان کے پاس آئے جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، تو انہیں وہ بتایا جو مجھے بتایا تھا، تو جبیر بن مطعم کھڑا ہوا اور کہا: اے محمد! اگر میں اسی طرح جوان ہوتا جیسے پہلے تھا تو تم ہمارے درمیان ہوتے ہوئے یہ بات نہ کہتے۔ اس پر قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: اے محمد! کیا آپ فلاں جگہ ہمارے اونٹوں کے پاس سے گزرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم، میں نے دیکھا کہ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا اور وہ اسے تلاش کر رہے تھے۔“ اس نے کہا: کیا آپ فلاں قبیلے کے اونٹوں کے پاس سے بھی گزرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، فلاں جگہ ان کی ایک سرخ اونٹنی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی، اور میں نے انہیں دیکھا، ان کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا جس میں سے میں نے پی لیا۔“ لوگوں نے کہا: ہمیں بتائیے کہ ان کی تعداد کتنی تھی اور ان میں کتنے چرواہے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ان کی تعداد گننے میں مشغول نہیں تھا۔“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے انہیں گن لیا اور ان کے چرواہوں کو بھی جان لیا، پھر قریش کے پاس آ کر فرمایا: ”تم نے مجھ سے فلاں قبیلے کے اونٹوں کے بارے میں پوچھا تھا، وہ اتنے اتنے ہیں اور ان میں فلاں اور فلاں چرواہے ہیں، اور تم نے مجھ سے فلاں قبیلے کے اونٹوں کے بارے میں پوچھا تھا، وہ اتنے اتنے ہیں اور ان میں ابن ابی قحافہ اور فلاں اور فلاں چرواہے ہیں، اور وہ کل صبح گھاٹی پر تمہارے سامنے آئیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ صبح گھاٹی کی طرف گئے یہ دیکھنے کے لیے کہ آپ ﷺ نے جو کچھ کہا وہ کتنا درست ہے، تو ان کا سامنا اونٹوں سے ہوا، انہوں نے پوچھا: کیا تمہارا کوئی اونٹ گم ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر دوسرے سے پوچھا: کیا تمہاری کوئی سرخ اونٹنی کی ٹانگ ٹوٹی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ لوگوں نے کہا: کیا تمہارے پاس ایک پیالہ تھا؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم، میں نے ہی وہ رکھا تھا، نہ کسی نے اس میں سے پیا اور نہ اسے زمین پر بہایا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور ایمان لائے، چنانچہ اسی دن ان کا نام صدیق رکھا گیا۔