حدیث نمبر: 21413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: أَلَا تُعْذِرُنِي مِنْ عَلِيٍّ؟ قَالَ: «مَا لَهُ؟» قُلْتُ: جَاءَنِي رَجُلٌ فَعَاذَ بِي، فَقَالَ عَلِيٌّ: تَنَحَّيْ عَنِّي وَإِلَّا أَنْفَذْتُكِ بِالرُّمْحِ، وَإِنَّهُ طَعَنَنِي فِي مُقَدِّمِ رَأْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ عَلِيٌّ لِيَطْعَنُكِ»
ترجمہ

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے علی سے نہیں بچائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: ایک آدمی میرے پاس آیا اور میری پناہ میں آگیا، تو علی نے کہا: مجھ سے ہٹ جاؤ ورنہ میں تمہیں نیزے سے مار دوں گا، اور انہوں نے نیزے سے میرے سر کے اگلے حصے میں کچوکا لگا دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”علی تمہیں نیزہ مارنے والے نہیں تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21413
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 428، حدیث 1045