حدیث نمبر: 21403
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ: «هَلْ كُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا»
ترجمہ

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے بیان کا تسلسل ہے: … اور ام ہانی آپ ﷺ کے دائیں جانب تھیں، پھر ایک برتن لایا گیا جس میں مشروب تھا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر ام ہانی کو دیا تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا، پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے روزہ توڑ دیا حالانکہ میں روزے سے تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم کوئی قضا روزہ رکھے ہوئے تھیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اگر یہ نفلی روزہ تھا تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21403
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 425، حدیث 1035