المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21384
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ فَاغْتَسَلَ، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ حَمَوَيَّ ابْنِيْ هُبَيْرَةَ، وَإِنَّ ابْنَ أُمِّي زَعَمَ أَنَّهُ قَاتِلُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ»ترجمہ
… تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے سسرالی رشتے داروں، ہبیرہ کے دونوں بیٹوں کو پناہ دی ہے، اور میرے بھائی کا خیال ہے کہ وہ انہیں قتل کر دے گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے اسے بھی پناہ دے دی جسے ام ہانی نے پناہ دی۔“