المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمَيُّ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَلَمْ أَجِدُهُ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى دَخَلَ، فَقُلْتُ: دَخَلَ عَلِيَّ ابْنُ أُمِّي، تَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْتُلَ حَمَوَيَّ ابْنِيْ هُبَيْرَةَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَجَرْتُهُما، فَقَالَ: مَا ذَلِكَ لَكِ، تُجِيرِينَ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا فَاطِمَةُ، اسْكُبِي لِي مَاءً فَاغْتَسَلَ» ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِابومرہ، عقیل بن ابی طالب کے غلام، رحمہ اللہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں فتح کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئی تو میں نے انہیں نہ پایا، تو میں نے ان کا انتظار کیا یہاں تک کہ وہ تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا: میرا بھائی میرے پاس آیا — ان کی مراد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے تھی، تو وہ میرے سسرالی رشتے داروں، ہبیرہ کے دونوں بیٹوں کو قتل کرنا چاہتے تھے، تو میں نے کہا: میں نے تو انہیں پناہ دے دی ہے، تو انہوں نے کہا: تمہیں یہ حق نہیں، کیا تم مشرکین کو پناہ دیتی ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“ پھر فرمایا: ”اے فاطمہ! میرے لیے پانی ڈالو۔“ تو آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر ایک ہی کپڑے میں، اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں ڈال کر، آٹھ رکعتیں پڑھیں۔