المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ» ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ، فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ» ، قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَلِكَ ضُحًىراوی نے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا: میں فتح کے سال نبی کریم ﷺ کے پاس گئی تو انہیں غسل کرتے پایا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا انہیں کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو میں نے سلام کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید۔“ جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں، جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھائی کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے آدمی کو قتل کر دیں گے جسے میں نے پناہ دی ہے، فلاں ابن ہبیرہ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ہانی! ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور یہ چاشت کا وقت تھا۔