المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21382
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ هَانِئٍ، تَقُولُ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ أَتَانِي حَمَوَيَّ فَأَمَّنْتَهُما، فَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَهُمَا، فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ» ، ثُمَّ أَمَرَ فَاطِمَةَ فَسَكَبَتْ لَهُ غُسْلًا، ثُمَّ سَتَرَ فَاغْتَسَلَ، وَقَامَ فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ، لَمْ أَرَهُ صَلَّى قَبْلُ وَلَا بَعْدُترجمہ
… تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے، وہ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی، اور اسے امان دے دی جسے تم نے امان دی۔“ پھر آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تو انہوں نے غسل کے لیے پانی ڈالا، پھر پردہ کیا گیا، تو آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر کھڑے ہو کر چاشت کی نماز آٹھ رکعتیں ایک ہی کپڑے میں، اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں ڈال کر، پڑھیں، میں نے آپ ﷺ کو نہ اس سے پہلے یہ نماز پڑھتے دیکھا نہ بعد میں۔