المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21379
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ حَمَوَيَّ، فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلَهُ - تَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ» قَالَ مُحَمَّدٌ: «وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ»ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے سسرالی رشتے دار کو پناہ دی ہے، اور میرے بھائی کا خیال ہے کہ وہ اسے قتل کر دے گا — ان کی مراد علی رضی اللہ عنہ سے تھی — تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ہانی! ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“ محمد کہتے ہیں: ”اور میں نے ابومرہ کو دیکھا ہے۔“