المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21378
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ حَمَوَيَّ، وَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي - تَعْنِي عَلِيًّا - أَنَّهُ قَاتِلَهُ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ هَانِئٍ، قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ» ، ثُمَّ سَكَبَ لَهُ مَاءً، ثُمَّ سَتَرَ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَالَفَ ثَوْبًا عَلَيْهِ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے دو سسرالی رشتے داروں کو پناہ دی ہے، اور میرے بھائی — ان کی مراد علی رضی اللہ عنہ سے تھی — کا خیال ہے کہ وہ اسے قتل کر دے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ہانی! ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“ پھر ان کے لیے پانی ڈالا گیا، پھر پردہ کیا گیا، تو آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر ایک کپڑا اس طرح اوڑھا کہ اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیے، پھر ظہر کی نماز چار رکعتیں پڑھی۔