المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ باب: ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21380
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ عَامَ الْفَتْحِ فِي دَارِهَا، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ، زَعَمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ حَمَوَيَّ، ومُخْفِرٌ جِوَارِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ» ثُمَّ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے دو آدمیوں کو پناہ دی ہے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وہ میرے سسرالی رشتے دار کو قتل کر دیں گے اور میری پناہ کو توڑ دیں گے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“ پھر آپ ﷺ نے چاشت کی نماز آٹھ رکعتیں ایک ہی کپڑے میں، اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں ڈال کر، پڑھیں۔