حدیث نمبر: 21364
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَأَتَانِي بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَسَقَاها، قَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ شَرَابُكَ، قَالَ: «كُنْتِ تَقْضِينَ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «لَا يَضُرُّكِ»
ترجمہ

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، تو ان کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا اور انہیں بھی پلایا، انہوں نے عرض کیا: میں روزے سے تھی، لیکن مجھے یہ ناپسند ہوا کہ آپ کا مشروب آپ کو واپس کر دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم قضا کر رہی تھیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21364
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 410، حدیث 996