المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عمرو بن جعدة بن هبيرة، عن جدته أم هانئ باب: عمرو بن جعدہ بن ہبیرہ کی اپنی دادی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَحَدُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضَّلَ اللهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ قَبْلَهُمْ، وَلَا يُعْطَاهَا أَحَدٌ بَعْدَهُمْ: فَضَّلَ اللهُ قُرَيْشًا أَنِّي مِنْهُمْ فَإِنَّ النُّبُوَّةَ فِيهِمْ، وَإِنَّ الْحِجابَةَ فِيهِمْ، وَإِنَّ السِّقَايَةَ فِيهِمْ، ونَصَرَهُمْ عَلَى الْفِيلِ، وعَبَدُوا اللهَ عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ غَيْرُهُمْ، وَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ تَنْزِلْ فِي أَحَدٍ غَيْرِهِمْ "سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے قریش کو سات خصلتوں سے فضیلت دی جو ان سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور نہ ان کے بعد کسی کو دی جائیں گی: اللہ نے قریش کو یہ فضیلت دی کہ میں انہی میں سے ہوں، اور نبوت انہی میں ہے، اور خانہ کعبہ کی چابی (حجابت) انہی میں ہے، اور پانی پلانا (سقایت) انہی میں ہے، اور اللہ نے ہاتھی والوں کے مقابلے میں ان کی مدد کی، اور انہوں نے دس سال تک اللہ کی عبادت کی جبکہ ان کے سوا کوئی اور اس کی عبادت نہیں کرتا تھا، اور اللہ نے ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل کی جو ان کے سوا کسی اور کے بارے میں نازل نہیں ہوئی۔“