حدیث نمبر: 21360
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ أَتَيْتُ حَدَثًا قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَتْ: كُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ يَدَكَ فَشَرِبْتُ، قَالَ: «مِنْ صَوْمٍ كُنْتِ تَقْضِيهِ؟» قَالَتْ: لَا، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ»
ترجمہ

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھی تھی کہ آپ ﷺ کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی اس میں سے پیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے لگتا ہے میں نے کوئی نئی بات کر ڈالی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے تھی، لیکن مجھے یہ ناپسند ہوا کہ آپ کا ہاتھ واپس کروں، تو میں نے پی لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ کسی ایسے روزے کی قضا تھی جو تم قضا کر رہی تھیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21360
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 408، حدیث 992