المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هارون بن بنت أم هانئ، عن أم هانئ باب: ہارون بن بنتِ ام ہانی کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21359
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَسَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قُلْتُ: كُنْتُ صَائِمَةً فَأَفْطَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمِنْ قَضَاءٍ كُنْتِ تَقْضِيهِ؟» قَالَتْ: لَا، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ»ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھی تھی کہ آپ ﷺ کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی اس میں سے پیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، میرے لیے استغفار کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے تھی، تو میں نے روزہ توڑ دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ کسی قضا کا روزہ تھا جو تم قضا کر رہی تھیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“